دولت مند غریب کباب کی خوشبو شہزاد کی بھوک میں اضافہ کررہی تھی لیکن وہ صرف حسرت سے لوگوں کباب کھاتا دیکھ سکتا تھا اپنی بڑی سی گاڑی میں بیٹھے سیٹھ فرید پلیٹ بھر کر سیخ کباب اور شامی کباب گرم روٹی سے کھارہے تھے ان کا بیٹا شہزاد کا ہم عمر ہوگا ملائی بوٹی سے لطف اندوز ہورہا تھا وہ اکثر اس ہوٹل پر آتے تھے شہزاد اس ہوٹل کے بیرونی حصے میں ویٹر کی نوکری کرتا تھا اس کا کام ہوٹل کے سامنے کھڑی گاڑیوں میں آئے ہوئے لوگوں سے آرڈر لینا اور ان کو کھانا فراہم کرنا تھا شہزاد کا دنیا میں اپنے غریب چچا کے سوا کوئی نہ تھا جن کے ساتھ وہ رہتا تھا ابھی اسے ہوٹل میں کام کرتے ہوئے چند مہینے ہی ہوئے تھے اسے معمولی کی تنخواہ ملتی تھی جس سے جیسے تیسے گزارہ ہورہا تھا جس ہوٹل میں وہ کام کرتا تھا وہاں کا کھانا بہت مہنگا تھا شہزاد وہ کھانا خرید کر تو ہرگز نہیں کھاسکتا تھا البتہ کبھی کبھی ہوٹل کے مالک خوش ہوتے تھے تو تمام نوکروں کو کھانا کھلا دیتے تھے لیکن ایسا بھی مہینے میں ایک آدھ بارہی ہوا کرتا تھا،شہزاد کی خواہش تھی کہ وہ بھی امیر ہواور کھانا خرید کر کھائے کوئی ویٹر اس کو بھی بڑے ادب سے کھانا پیش کرے اس کا حکم...